لفنگی روح
ادیب کو سامنے سے آتا دیکھ کر مونس جلدی سے فون بند کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور آمین کو اشارہ کیا. تینوں ابھی بیٹھے ہی تھے کہ عروہ نے ان تینوں کو آ کر جوائن کیا. ان چاروں کی یہ مخصوص میز تھی،پوش علاقے کے اس ڈھابے نما ریسٹورنٹ پر اکثر ان کی یہ بیٹھک ہوا کرتی تھی، بالخصوص ہر ویک اینڈ پر رات گئے تک باتیں کرنا اور پینا پلانا ان کا ہمیشہ کا معمول تھا
________________________________
عروہ ایک سیٹھ کی بیٹی تھی جس نے بیٹی پر کبھی کوئی روک ٹوک نہیں لگائی اور اس کو لڑکوں کی طرح ہر چیز سکھائی. عروہ لڑکوں کے درمیان بیٹھ کر لڑکوں سے زیادہ بےباک اور پر اعتماد ہوتی تھی. آمین ملک کے سب سے بڑے تجارتی خاندان کا چشم و چراغ تھا. مونس ایک کاروباری گھرانے سے تعلق رکھتا تھا جبکہ صرف ادیب ان میں متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا اور بظاہر ایک سیلف میڈ شخص تھا. ان سب کا تعلق مختلف طبقہ فکر سے تھا جن میں معاشی جوڑ تقریباً نا ہونے کے برابر تھا مگر ان کی بے جوڑ دوستی کا محور صرف ایک تھا، "دلائل کے ساتھ گفتگو". چاہے وہ ایک دوسرے کی بات سے متفق نا ہوں مگر بات برداشت، توجہ اور کھلے دل سے سنتے تھے...
________________________________________
عروہ نے اپنی ایک ٹانگ میز پر ٹیکتے ہوۓ سگریٹ سلگائ اور آمین کی طرف چہرہ کر کے گہرا کش کھینچتے ہوے کہا، " وہ تمہارئ Lady sheets کیسی ہے؟ دوبارہ بات ہوئ؟ وہ تو میری سوچ سے کہیں ذیادہ سمجھ دار نکلی۔ “ امین بیئر کی بوتل سے ایک گھونٹ لیتے ہویے ہنس پڑا۔ ارے وہ تو ایک دفعہ ہاتھ آئئ تھی، پر جو چس آئئ تھی مزا آ گیا تھا۔ دوبارہ ایک مرتبہ کوشیش تو کی تھی۔ مگر کوئی نہیں، کہاں جاۓ گی؟ مونس یک دم بول اٹھا، ابے میمن! تو بڑا سلو آدمی ہے، تیری جگہ میں ہوتا تو تیری وہ لیڈی شیٹ اب تک میرے ساتھ فلی سیٹ ھوتی۔ نخرے ہی دیکھ رہا ہے اب تک تو اس کے۔ ایسی لڑکیوں کو زرا کھنچ کر رکھتے ہیں۔ ادیب جو اب تک ان کی باتیں صرف سن کر مسکرا رہا تھا۔ اپنا حصہ ڈالے بنا کیسے رہ سکتا تھا، فورا بول اٹھا۔ دیکھو بھائیوں! سب سے پہلے لڑکی کا اعتماد جیتو، پھر اسے یہ احساس دلواؤ کے وہ تمہارے ساتھ محفوظ ہے۔ بس پھر دیکھو تھرک کے کون کون سے Level پارکرواے گی تمھارے۔ لڑکی پھر چاہے تمھاری پر سکون قسم کی لیڈی شیٹ ہو یا پھر اپنی جنگلی بلئ۔ سب آپ کے اشاروں پر چلیں گی۔ ادیب کے اس جملے پر تینوں ایک بھرپور قہقہے کے ساتھ ہنسے تو عروہ نے خود کو اس بے ہودہ مزاق میں شامل کیے جانے پر بے مزہ سی مسکراہٹ دینا ہی کافی سمجھا۔
اب عروہ ان سب سے ہمکلام ہوئی، آخر تم لوگوں کو کیا مزہ آتا ہے یہ سب کر کے؟ کہنے کو تم سب پڑھے لکھے اور مہذب گھرانوں کے لڑکے ہو۔ اور ادیب تم تو شادی شدہ ہو، پھر بھی ذو معنی جملے کسنے سے باز نہیں آتے۔ کسی لڑکی کو دیکھا نہیں اور اپنی اوقات دیکھائی نہیں۔ ٹھیک ہے، میں کافی حد تک لبرل سوچ کی حامل ہوں، مگر تم مردوں کی اس سوچ کے خلاف ہوں۔ کسی بھی لڑکی یا عورت کو دیکھ کر فوراء اسے مال غنیمت سمجھ لیتے ہو۔ ہر لڑکی تم سب کی توجہ لینے کے لیے نہیں ہوتی۔ ہاں! جو توجہ مانگے یا آسان االفاظ میں کہوں کہ اگر کوئی تمھاری طرح کی ہو، تو اسے جتنی مرضی Attention دو۔ لیکن اس کے لیے بھی ایک بات یاد رکھو، عورت کوہر مرد سے احترام اور عزت چاہیے، چاہے وہ اس کا محرم ہو یا تم لوگوں کی طرح کا اولین تھرک۔
ادیب فورا چہک کر بولا، ارے بھائی attention کون دیتا ہے؟ یہ تو بس زبان کے ذائقے کی طرح لت ہوتی ہے ہر مرد کو، کسی کو کم کسی کو ذیادہ۔ جس کو ذیادہ ہو، وہ میری طرح بدنام ہو جاتا ہے۔ ورنہ کوئی یہ کہے کہ اس نے آج تک تھرک نہیں کی اور کسی عورت کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا، تو اصل میں اس مظلوم کوموقع نہیں ملا۔ وارنہ ہر مرد اپنی زندگی کے کسی نا کسی مرحلے میں یہ کام ضرور کرتا ہے۔ اور آج کل کے دور میں تو سوال پیدا نہیں ہوتا کہ کسی نے یہ حرکتیں نہ کی ہوں۔ وہ اپنا لاہور کا لونڈا بلال ، جانتی ہو نا اسے؟ 28 سال عمر ہو گی اس کی اور تقریباء 20 کے قریب لڑکیاں اس کی گرل فرنڈز رہی ہیں اور یقین مانو، ہر لڑکی کے ساتھ اسے سچی محبت ہوئی ہے۔ اب ایسے نگینے کی کوئی قدر ہی نا ہو تو کیا کریں؟ ادیب کی اس بات پر امین اور مونس ایک بار پھر ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنس پڑے۔
دیکھو! آمین نے بات ایک بار پھر آگے بڑھائی۔ میں تمہیں بنیادی درجہ بندی بتا دیتا ہوں۔
اول درجے پر آتے ہیں، بے امید تھرکی؛ تم انکو جواب دو یانا دویہ اپنی تھرک ضرور پوری کرتے ہیں۔ بس سمجھو کہ ان کو پتہ چل جاۓ کہ سامنے عورت ہے تو بس یہ شروع ہو جاتے ہیں۔ تمہں اس طرح کے لوگ اپنے سوشل میڈیا کے other messages میں مل جائیں گے۔ کھول کر دیکھنا کتنا رنگین ماحول ہو گا وہاں۔ ان لوگوں نے تم سے دوستی سے لے کر تمھاری غلامی کرنے کے وعدے اور دعوے کر رکھے ہو نگے۔ سڑکوں پر تو ویسے ہی ان لوگوں کی بھرمار ہوتی ہے۔ ان کو پتہ ہوتا ہے، عورت نے ان کو نا گواری کے ساتھ مسترد کر دینا ہے۔
دوسرا درجہ آتا ہے، محتاط تھرکی؛ یہ تمہیں پتہ بھی نہیں لگنے دے گا، اور بلا وجہ تم سے بے تکلف ہو کر صرف تھرک پوری کرے گا۔ بے معنی اور لغو جملے بازی کرے گا، اور جہاں لڑکی بےچین اور غیر آرام دہ نظر آئی یا اس نے خود سے دور کیا، تو فورا پینترا بدلا اور کہا، باجی تم ڈر گی میں تو مزاق کر رہا تھا۔ یہ اپنا ادیب یہ ہی کام کرتا ہے۔ ادیب نے ایک اور قہقہہ لگاتے ہوے عروہ کو آنکھ ماری۔
تیسرا درجہ ہوتا ہے، پر امید مگر رومانوی قسم کے تھرکی؛ یہ وہ قسم ہےکہ جب تک اسےگھر والا ما حول نا ملے، یہ تھرک پر نہیں آتا۔ یہ جذباتی طور پر لڑکی یا عورت کو گھیرتا ہے۔ بھائی! باقی تالی ایک ہاتھ سے تو بجتی نہیں، عورت جب اس کے چکر میں آ جاۓ اور وہ تصورات میں بہت آگے چلی جاۓ تب تھرک کا آغاز کرتا ہےاور یہ تب تک رہتا ہے جب تک عورت میں کشش اور مرد میں ہمت قائم رہے یا دوسری صورت میں جب تک اس لڑکی کی سچ مچ میں کسی سے شادی نا ہو جاۓ۔
عروہ کا چہرہ غصے میں تمتمانے لگا تھا۔ سونے پر سہاگہ ان کے مسلسل قہقہے اس کا پارہ گرم کرنے کے لیے کافی تھے۔ مونس جو اب تک ساری گفتگو سے محظوظ ہو رہا تھا، موقع محل دیکھ کر اپنا حصہ ڈالنے سے نا چوک سکا۔
ایسے غصہ دیکھا کر مردوں پر سارا الزام نا دھرو، عری!۔ وہ عالیہ کو بھول گیں؟ اسکے فون کے بیلینس سے لے کر ادھی شوپنگز سب اسکے مرد دوست پورا کرتے تھے۔ اتنے اسکے دوست ہیں۔ ایک وقت میں تین لڑکوں کے ساتھ لگی ہوتی ہے۔ ابھی اس نے ایک سے آئی فون لیا، دوسرے سے اپنی سالگرہ کا ایونٹ الیٹ کلاس ہوٹل میں رکھوایا تھا۔ اریبہ نکاح یافتہ ہے، اور اتنا فلرٹ کرتی ہے۔اپنے ہل اسٹیشن کے ٹرپ تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ مزید کوئی بات کرتا، عروہ نے اسے ہا تھ کے اشارے سے روک دیا۔ دیکھو مونس! اندر کے جانور کو تسکین دینے کی خاطر جو راستہ محض بصد مذاق چن لیا جاۓ، وہ بحر حال غلط ہی ہے۔ اب چاہے وہ عورت ہو یا مرد، تھرک کرے گا غلط کرے گا۔ جذباتی استحصال پر ہمارا قانون اور معاشرہ کسی کو کوئی سزا نہیں دیتا۔ جب تک یہ جزباتی تکلیف جسمانی ایذا نہ دینے لگے۔ تب تک کوئی اف تک نہیں کرتا۔ تم دیکھ لو ، آج اس بھیڑ چال کا ہر کوئی خوشی سے شکار ہوتا نظر آتا تھا۔ صرف مغرب نہیں ہمارے معاشرے میں بھی اس جذباتی اور ذہنی استحصال سے جو آگ پھیل رہی ہے اس نے کسی طبقے، رنگ نسل کو نہیں دیکھا، سب کو یکساں نقصان دے رہا ہے۔ آج دیکھ لو
سا ئبر کرائم پورا ایک الگ سر درد بنا ہوا ہے قانون اور اس کے منسلک اداروں کے لیے۔ غیر اخلاقی تصاویر، حراسمنٹ، وغیرہ، ان سب کا آغازتھرک کے پہلے قدم سے ہوتا ہے۔ تم سب اس کے اتنے عادی ہو گئے ہو کہ تمہیں کچھ غلط محسوس ہی نہیں ہوتا۔ شاید وہ جو روح اور ضمیر کی ملامت کا احساس ہے وہ باقی نہیں رہا۔ انسان تو نہیں کہوں گی، لیکن تمہاری ان ذہنی بیماراورلفنگی روحوں کو ایک بات ضروربتاوں گی۔ کسی کو تکلیف دینے سے پہلے یاد رکھنا مکافات عمل بھی ایک چیز ہے۔ آج جو کر رہے ہو، وہ تمہارے پاس پلٹ کر ضرور آۓ گا۔ تب آنسو مت بہانا۔ ان ہی قہقہوں کے ساتھ اپنے پیاروں کو تڑپتے دیکھنا۔
یہ سب کہ کر عروہ اپنا بیگ اٹھا ئے چل پڑی، جب کہ وہ اسے جاتا دیکھ رہے تھے۔ اتنے میں ساتھ والی میز پر کسی کا فون بج اٹھا۔ وہ زلفی کا گینگ تھا، فون کرنے والے نے بتایا تھا کہ زلفی نے کسی لڑکی کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا ہے، کیوں کے لڑکی نے اس سے مزید ان لائن دوستی رکھنے سے انکار کر دیا تھا۔ اور اب پولیس اس کو ڈ ھنڈنے اسی طرف آ رہی ہے۔ اس آواز کے ساتھ وہ تینوں سانس روکے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔
میمونہ بتول زیدی
Comments
Post a Comment