التجاء


 ‎ادویات کی مہک سے رچا ہوا اک خط مجھے موصول ہوا ۔میں نے پڑھنا ضروری نہیں سمجھا ویسے بھی عجلت میں تھا ۔

‎رات فرصت میں ڈاک دیکھی اس خط کو بھی کھولا

‎جس پر تحریر تھا

‎سنو !

‎میرے مرنے کے بعد تدفین سے پہلے آ جانا ۔وصیت کر کے جاؤنگی کے تمہارے آنے پر ہی سپرد خاک کیا جاۓ ۔تمہارا نمبر یاور کو دے دیا ہے

‎سنو مجھے تنہائی میں نیند نہیں آتی میرے سرہانے بیٹھ جانا صرف ایک رات ۔

‎فکر نہ کرو تب میں نہ کسی کے بیٹی ہوں گی نا بہن اور نا بیوی ۔

‎تب تو معاملہ میرا ،خدا اور تمہارا ہو گا تب تم میرے محرم بن جانا ۔گیلی مٹی پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا میں سمجھوں گی تم نے ہاتھ تھاما ہوا ہے میرا ۔ التجا سمجھ کر آ جانا پلیز

‎پرسوں رات انجانے نمبر سے کافی کال آئی تھیں میں ایسے نمبر رسیو نہیں کرتا اور پھر تھکن کی وجہ سے بھی سائلینٹ پر لگا کر سو گیا

‎ڈوبتے دل سے اسی نمبر کو ملایا کچھ خاموشی کے بعد ایک نسوانی آواز ابھری

‎اس دن اسے تمہاری ضرورت تھی اب تنہائی راس آ گئی ہو گی _

اقتباس 

Comments

Popular posts from this blog

المیہ ہی المیہ

When I swear.....