المیہ ہی المیہ لا الہ کے دیس میں کشور حسین پر المیہ ہی المیہ پاک سرزمین پر دور تک اندھیرے ہیں یاس کے بسیرے ہیں گھات میں لٹیرے ہیں غاصبوں کے ڈیرے ہیں کسی رات چھاگئی صبح آفرین پر المیہ ہی المیہ پاک سرزمین پر اہل زر کا راج ہے جبر تخت و تاج ہے ظلم کا سماج ہے روگ لا علاج ہے ظلم کا یہ سلسلہ شاق ہے جبین پر المیہ ہی المیہ پاک سرزمین پر خوف ہے ہراس ہے تشنگی ہے پیاس ہے چھت ہے نا لباس ہے چور چور آس ہے ہائے لٹ گیا یقین مرکز یقین پر المیہ ہی المیہ پاک سرزمین پر منتشر خیال ہیں خواب پائے مال ہیں لوگ پر ملال ہیں غم سے یوں نڈھال ہیں گر پڑی ہو جیسے چھت زیر چھت مکین پر المیہ ہی المیہ پاک سرزمین پر در بدر جوان ہیں قوم کی جو آن ہیں کل کے پاسبان ہیں ذہن بدگمان ہیں بند آرزو کے در ہوگئے ذہین پر المیہ ہی المیہ پاک سرزمین پر شہر ہے یا گوٹھ ہے نظریوں کی اوٹ ہے نیتوں میں کھوٹ ہے ٹھوکریں ہیں چوٹ ہے رہزنی کا ہو گمان اپنے ہم نشین پر المیہ ہی المیہ پاک سرزمین پر بھڑیے ہیں رو برو بہہ رہا ہے کوں بہ کوں اپنا خون جوں بہ جوں تیر زن چہار سو سب کے سب جھپ...
ادویات کی مہک سے رچا ہوا اک خط مجھے موصول ہوا ۔میں نے پڑھنا ضروری نہیں سمجھا ویسے بھی عجلت میں تھا ۔ رات فرصت میں ڈاک دیکھی اس خط کو بھی کھولا جس پر تحریر تھا سنو ! میرے مرنے کے بعد تدفین سے پہلے آ جانا ۔وصیت کر کے جاؤنگی کے تمہارے آنے پر ہی سپرد خاک کیا جاۓ ۔تمہارا نمبر یاور کو دے دیا ہے سنو مجھے تنہائی میں نیند نہیں آتی میرے سرہانے بیٹھ جانا صرف ایک رات ۔ فکر نہ کرو تب میں نہ کسی کے بیٹی ہوں گی نا بہن اور نا بیوی ۔ تب تو معاملہ میرا ،خدا اور تمہارا ہو گا تب تم میرے محرم بن جانا ۔گیلی مٹی پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا میں سمجھوں گی تم نے ہاتھ تھاما ہوا ہے میرا ۔ التجا سمجھ کر آ جانا پلیز پرسوں رات انجانے نمبر سے کافی کال آئی تھیں میں ایسے نمبر رسیو نہیں کرتا اور پھر تھکن کی وجہ سے بھی سائلینٹ پر لگا کر سو گیا ڈوبتے دل سے اسی نمبر کو ملایا کچھ خاموشی کے بعد ایک نسوانی آواز ابھری اس دن اسے تمہاری ضرورت تھی اب تنہائی راس آ گئی ہو گی _ اقتباس
Comments
Post a Comment