Posts

Showing posts from June, 2022

المیہ ہی المیہ

  ‏‎المیہ ہی المیہ لا الہ کے دیس میں کشور حسین پر المیہ ہی المیہ پاک سرزمین پر دور تک اندھیرے ہیں یاس کے بسیرے ہیں گھات میں لٹیرے ہیں غاصبوں کے ڈیرے ہیں کسی رات چھاگئی صبح آفرین پر المیہ ہی المیہ پاک سرزمین پر اہل زر کا راج ہے جبر تخت و تاج ہے ظلم کا سماج ہے روگ لا علاج ہے ‏‎ظلم کا یہ سلسلہ شاق ہے جبین پر المیہ ہی المیہ پاک سرزمین پر خوف ہے ہراس ہے تشنگی ہے پیاس ہے چھت ہے نا لباس ہے چور چور آس ہے ہائے لٹ گیا یقین مرکز یقین پر المیہ ہی المیہ پاک سرزمین پر منتشر خیال ہیں خواب پائے مال ہیں لوگ پر ملال ہیں غم سے یوں نڈھال ہیں گر پڑی ہو جیسے چھت ‏‎زیر چھت مکین پر المیہ ہی المیہ پاک سرزمین پر در بدر جوان ہیں قوم کی جو آن ہیں کل کے پاسبان ہیں ذہن بدگمان ہیں بند آرزو کے در ہوگئے ذہین پر المیہ ہی المیہ پاک سرزمین پر شہر ہے یا گوٹھ ہے نظریوں کی اوٹ ہے نیتوں میں کھوٹ ہے ٹھوکریں ہیں چوٹ ہے رہزنی کا ہو گمان اپنے ہم نشین پر ‏‎المیہ ہی المیہ پاک سرزمین پر بھڑیے ہیں رو برو بہہ رہا ہے کوں بہ کوں اپنا خون جوں بہ جوں تیر زن چہار سو سب کے سب جھپ...