Posts

Showing posts from October, 2021

لفنگی روح

Image
  ادیب کو سامنے سے آتا دیکھ کر مونس جلدی سے فون بند کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور آمین کو اشارہ کیا. تینوں ابھی بیٹھے ہی تھے کہ عروہ نے ان تینوں کو آ کر جوائن کیا. ان چاروں کی یہ مخصوص میز تھی،پوش علاقے کے اس ڈھابے نما ریسٹورنٹ پر اکثر ان کی یہ بیٹھک ہوا کرتی تھی، بالخصوص ہر ویک اینڈ پر رات گئے تک باتیں کرنا اور پینا پلانا ان کا ہمیشہ کا معمول تھا ________________________________    عروہ ایک سیٹھ کی بیٹی تھی جس نے بیٹی پر کبھی کوئی روک ٹوک نہیں لگائی اور اس کو لڑکوں کی طرح ہر چیز سکھائی. عروہ لڑکوں کے درمیان بیٹھ کر لڑکوں سے زیادہ بےباک اور پر اعتماد ہوتی تھی. آمین ملک کے سب سے بڑے تجارتی خاندان کا چشم و چراغ تھا. مونس ایک کاروباری گھرانے سے تعلق رکھتا تھا جبکہ صرف ادیب ان میں متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا اور بظاہر ایک سیلف میڈ شخص تھا. ان سب کا تعلق مختلف طبقہ فکر سے تھا جن میں معاشی جوڑ تقریباً نا ہونے کے برابر تھا مگر ان کی بے جوڑ دوستی کا محور صرف ایک تھا، "دلائل کے ساتھ گفتگو". چاہے وہ ایک دوسرے کی بات سے متفق نا ہوں مگر بات برداشت، توجہ اور کھلے دل سے سنتے تھے....

تارہ

Image
  گئے برسوں کی بات ہے، بلند پربتوں کے اس پار،  سیاہ وادی کے دامن میں ایک لڑکا ہر رات آسمان کی جانب دیکھتا  ہے ۔ ایک رات اسے  اک تارہ ٹوٹتا  ہوا نظر آتا ہے، جو آسمان پر نارنجی سی لکیر بناتے ہوئے غا ئب ہو جاتا ہے۔ اسے یک دم  اپنی ماں کی بات یاد آ جاتی ہےکہ ٹوٹتے تارے کو دیکھ کر جو دعا مانگی جائے تو وہ ضرور پوری ہوتی ہے۔ اسی لخت وہ دعا کرتا ہے، " اے پالنے والے کبریا !  مجھے  محبت عطاکرنا  جومجھے مل جائے۔ " وہ اسی لمحے دوسری سمت دیکھتا ہے، جہاں اک ستارہ ٹمٹما رہا ہوتا ہے۔ اسے اس تارے سے محبت ہوتی ہے۔  اس کی یہ محبت پاگل پن اور جنون کی حدوں کو چھوتی تھی۔ وہ روزانہ رت جگا کر کہ اس تارے کو دیکھتا رہتا تھا اور تارہ ایسے جیسے اس کی نظروں کی حدت  کو محسوس کر کے مزید ٹمٹانے لگتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کی دیوانگی میں مزید  اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔اب اس کی  طلب اس قدر بڑھ جاتی ہےکہ اس کے بغیررہنا اب مشکل لگنے لگتا ہے۔ وہ سارا دن اس انتظار میں رہتا کہ کب رات ہو اور وہ اسے دیکھ سکے ۔ تارے کو دیکھ کر لگتا تھا جیسے ہر  گزرتی سیاہ ...