لفنگی روح
ادیب کو سامنے سے آتا دیکھ کر مونس جلدی سے فون بند کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور آمین کو اشارہ کیا. تینوں ابھی بیٹھے ہی تھے کہ عروہ نے ان تینوں کو آ کر جوائن کیا. ان چاروں کی یہ مخصوص میز تھی،پوش علاقے کے اس ڈھابے نما ریسٹورنٹ پر اکثر ان کی یہ بیٹھک ہوا کرتی تھی، بالخصوص ہر ویک اینڈ پر رات گئے تک باتیں کرنا اور پینا پلانا ان کا ہمیشہ کا معمول تھا ________________________________ عروہ ایک سیٹھ کی بیٹی تھی جس نے بیٹی پر کبھی کوئی روک ٹوک نہیں لگائی اور اس کو لڑکوں کی طرح ہر چیز سکھائی. عروہ لڑکوں کے درمیان بیٹھ کر لڑکوں سے زیادہ بےباک اور پر اعتماد ہوتی تھی. آمین ملک کے سب سے بڑے تجارتی خاندان کا چشم و چراغ تھا. مونس ایک کاروباری گھرانے سے تعلق رکھتا تھا جبکہ صرف ادیب ان میں متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا اور بظاہر ایک سیلف میڈ شخص تھا. ان سب کا تعلق مختلف طبقہ فکر سے تھا جن میں معاشی جوڑ تقریباً نا ہونے کے برابر تھا مگر ان کی بے جوڑ دوستی کا محور صرف ایک تھا، "دلائل کے ساتھ گفتگو". چاہے وہ ایک دوسرے کی بات سے متفق نا ہوں مگر بات برداشت، توجہ اور کھلے دل سے سنتے تھے....