تارہ
گئے برسوں کی بات ہے، بلند پربتوں کے اس پار، سیاہ وادی کے دامن میں ایک لڑکا ہر رات آسمان کی جانب دیکھتا ہے ۔ ایک رات اسے اک تارہ ٹوٹتا ہوا نظر آتا ہے، جو آسمان پر نارنجی سی لکیر بناتے ہوئے غا ئب ہو جاتا ہے۔ اسے یک دم اپنی ماں کی بات یاد آ جاتی ہےکہ ٹوٹتے تارے کو دیکھ کر جو دعا مانگی جائے تو وہ ضرور پوری ہوتی ہے۔ اسی لخت وہ دعا کرتا ہے، " اے پالنے والے کبریا ! مجھے محبت عطاکرنا جومجھے مل جائے۔ " وہ اسی لمحے دوسری سمت دیکھتا ہے، جہاں اک ستارہ ٹمٹما رہا ہوتا ہے۔ اسے اس تارے سے محبت ہوتی ہے۔ اس کی یہ محبت پاگل پن اور جنون کی حدوں کو چھوتی تھی۔ وہ روزانہ رت جگا کر کہ اس تارے کو دیکھتا رہتا تھا اور تارہ ایسے جیسے اس کی نظروں کی حدت کو محسوس کر کے مزید ٹمٹانے لگتا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ اس کی دیوانگی میں مزید اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔اب اس کی طلب اس قدر بڑھ جاتی ہےکہ اس کے بغیررہنا اب مشکل لگنے لگتا ہے۔ وہ سارا دن اس انتظار میں رہتا کہ کب رات ہو اور وہ اسے دیکھ سکے ۔ تارے کو دیکھ کر لگتا تھا جیسے ہر گزرتی سیاہ رات کے ساتھ اس کی چمک میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، ایسے جیسے وہ زنجیروں میں قید ہو اور ٹوٹ کر اپنے محبوب کے پاس جانے کو بےتاب ہو۔ ایک دن وہ آتا ہے کہ وہ اس تارے کے پاس جانے کے لیے پر بنانے لگتا ہے ۔ وادی کے لوگ اس پر ہنستے ہیں، اسے پاگل اور دیوانے کے القابات دینے لگتے ہیں، مگر وہ لوگوں کی باتیں سنی ان سنی کر کے اپنے کام میں لگا ریتا ہے۔ ہر رات جب وہ تھک کر آسمان کی طرف دیکھتا، تو تارے کی چمک اس کو ترو تازہ کر دیتی تھی ۔
آخر وہ وقت آتا ہے جب اس کا کام مکمل ہو جاتا ہے۔ آج رات خوب جوبن پر تھی اور تارے پر عجیب شباب تھا، اسکی چمک گزشتہ راتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی ۔ وہ پر مارتا ہے اور اڑنا شروع کر دیتا ہے۔ اڑتے اڑتے وہ بادلوں تک پہنچ جاتا ہے۔ وادی اور اسکے گھر چھوٹے ہوتے ہوتے نظروں سے اوجھل ہو نے لگتے ہیں۔ تارہ جو صدیوں سے زنجیروں میں جکڑا ہوا ہوتا ہے وہ اپنے محبوب کی اس تڑپ کو دیکھ کر سہہ نہیں پاتا اور اپنا پورا زور لگا دیتا ہے اس کی طرف بڑھ جانے کے لیے۔ دوسری طرف اس تارے کی طرف بڑھتے لڑکے کی ہمت جواب دینے لگتی ہے۔ مگر اپنے محبوب کی بڑھتی چمک اور اسے پا لینے کی جستجو اسے مزید آگےبڑھنے کی طاقت دیتی ہے۔
پھر وہ وقت آتا ہے جب وہ لڑکا اپنے محبوب تارے سے آسمان اور زمین کے درمیان ملتا ہے ، ان کے اس بے جوڑ ملاپ کے وقت اہل زمین کو فلک پر ایک تارہ سیاہ رات کے دامن پر لمبی نارنجی لکیر بناتا نظر آتا ہے اور دور کسی پسماندہ گاوں میں ایک اور لڑکا آسمان کے ٹمٹماتے تاروں کی طرف حسرت سے دیکھتا ہے، جہاں ایک تارہ ٹوٹ کر چشم زدن میں غائب ہو جاتا ہے۔ وہ لڑکا بھی آسمان کی طرف دیکھ کر اپنے محبوب سے مل جانے کی دعا مانگتا ہے۔ وہ اسی لمحے ایک دوسری سمت دیکھتا ہے جہاں ایک تارہ ٹمٹما رہا ہوتا ہے اسے اس تارے سے محبت ہوتی ہے.
میمونہ بتول زیدی
Comments
Post a Comment